روزنِ امید

(علی رضا بلوچ)

نجانے کب میں اک ایسے جہاں میں آگیا تھا کہ
جہاں پر اک عجب لاحاصلی کی کیفیت
طاری تھی دنیا پر
کہ جیسے سامنے منزل کھڑی تھی اور پاؤں شل سے تھے سب کے
، سکت نہ تھی کہ بڑھ کر ہاتھ سے چھو لیں پری پیکر سی اپنی شاہزادی کو
نقوش عشق کے سارے محل مسمارتھے جیسے
تھے بال وپر قفس میں اور بدن آزاد تھا سارا
چراغوں کی لویں بھی جل بجھی سی تھیں
کہ جیسے زندگی ایسے کسی زندان میں تھی کہ جہاں وہم گماں بھی منجمد سے تھے
جہاں بینائی بس دیوار سے دیوار تک کی تھی
جہاں سارے ہنر خاموش اور سہمے سے رہتے تھے
جہاں پر برف کی ٹھنڈک بدن میں شعلے بھرتی تھی
جہاں پر سوچ اور احساس ساکت تھے
جہاں سایہ نکل کر جسم سے کچھ دور بیٹھا تھا
جہاں بازار اور گلیاں بھی سائیں سائیں کرتی تھیں
یوں لگتا تھا کہ یہ آسیب سا ماحول سب کو مار ڈالےگا.
نجانے کس قسم کا خوف تھا ہرسو
بدن پر کپکپی طاری تھی دھڑکن رک کے چلتی تھی
زباں پرورد جاری تھا کہ اتنے میں
مری اماں مرا چہرہ پکڑ کر کہہ رہی تھی کیا ہوا بیٹا
بمشکل ہی حلق سے چیخ سی ابھری
تب اماں نے کلیجے سے لگا کر یہ کہا مجھ سے
مرے بیٹے سنو کچھ بھی نہیں ہے ہوش میں آؤ
برا اک خواب تھا جو ٹل گیا ہے
جو اباً یہ کہا میں نے
خدا کا شکر ہے جو کچھ بھی دیکھا ہے
وہ سب کچھ خواب تھا اماں
تو کیا یہ خواب تھا اماں؟

Comments are closed.