اگر تم سمجھوتو

(حمیرہ نور)

صدیوں سے
روشنیوں کا شھر
پُر سُکون اور پُر رونق
خوبصورت ترین
گھومنے جیسا گھومانے جیسا
پُر بھار ھواٸيں
اور حسين اداٸيں
رکھنے والا نیویارک
اب کے برس
بلکل خاموش ھوگیا ھے
اسکو
کسی کی بھی نظر نہیں لگی
اسے اپنے بھی پیار کرتے ھیں
غیر بھی دل وجان سے زیادہ
قریب رکھتے ھیں
ایک ایسا شھر
جس کی خوبصورت گلیاں،
حسین راتيں،
ھر وقت ھنستے کھیلتے
اور لہلھاتے باغات، درخت،
پودے ، بیل بوٹیاں،
چمکدار دکانيں،
مھکتے ریسٹورینٹ
لذیذ کھانے، پھل پھول اور
نجانے کیا کیا
اپنے اندر ایک مکمل جھان
سموٸے ھوٸے جیتا جاگتا
شھر نیویارک
شھرِخموشاں بن گیا ھے
صرف اور صرف
اپنے گھمنڈ،
انا اور تکبر سے
اپنی لاپرواھیوں سے
غلیظ حرکتوں سے
جاٸز ناجاٸز
بچوں کے قتلِ عام سے
ھم جنس پرستی سے
بی راھ روی سے
اور اونچ نیچ کے
بنیاد پر کٸے گٸے
ظلم و زیادتی سے
اللہ خفا ھوگیا ھے
نیویارک تیرا وقت
پورا ھوچکا ھے
جیسے فرعون کا ھوا تھا
تمھارے لیے صرف
فرعون کا مثال ھی کافی ھے
اگر تم سمجھو تو۔۔۔۔۔۔۔!!!!

—————–

توہین و تذلیل

قوم کو
بھیک مانگنے پر
مجبور مت کرو،،،،،،
وطن کارڈ
اور بےنظیر کارڈ کی حاصلات پر
ھم نے اپنی
غیرت مند قوم کو
مرتے دیکھا،
ذلیل و خوار ھوتے ھوٸے دیکھا،
عزت کا جنازہ اٹھتے دیکھا،
بیغیرتی کی انتھا کو
آسمان کے قریب قریب
چھوتے ھوٸے دیکھا،،،،،
ابھی اس غلاظت سے
جان چھوٹی ھی نہیں تھی کہ
احساس نام پے
ایک نیا ڈرامہ
(توھین و تذلیل)
شروع کیا گیا ھے
اس کی پہلی قسط
نو اپریل کو
بارہ ھزار کی ذلت سے
شروع ھوکر
عزت کی کھال اتارنے تک
چلتی رھے گی
اب صرف دیکھنا یہ ھے کہ
روز کی بنیاد پر
کتنوں کے کپڑے پھٹتے ھیں
اور کتنوں کی عزت کا
سرے عام تماشہ بنتا ھے!!؟؟

—————

دنیا میں چھاگٸی

اے دنیا والو
ھم سارے لوگ
سکون ڈھونڈھنے
کہیں نا کہیں نکل پڑتے تھے۔۔۔

امن کی تلاش
کس کو نہیں تھی۔۔۔۔۔۔!؟

ھم سب کو
درختوں کی ٹھنڈی چھاٸوں سے
بے پناھ عشق تھا۔

گھر پے کچھ وقت
اہلٍخانہ کے ساتھ
مل جل کر گذارنے کے لٸے
موقعے کی
جستجو میں رھتے تھے۔

حسرت تھی کہ
آفیس سے۔ کاروبار سے۔
کام کاج سے
ایک لمبی چھٹی ملے، جیسے
(اسکول کے بچوں کو ملتی ھے)
اور ھم خاندان والے
سارے خاندان والون سے/
دوستوں سے ملیں
گلے لگاٸیں۔ ھاتھ ملاٸیں
پیار کریں۔ احسان جتاٸیں
چھوٹے موٹے آنسو بہاٸیں
گلے شکوے سب کو سناٸیں
کچھ محبتیں بانٹيں
کچھ محبتيں لٹاٸيں
کچھ مسکراھٹ خریدیں
زندگی کے حسین لمحات
اور دلفریب گھڑیاں چراکر
واپس اپنے اپنے
شھروں ميں۔ گاٶں ميں۔
قصبوں ميں
کچے پکے گھروں ميں
یادوں کے ساتھ
جیتے رھيں ھنستے رھيں
مگر میری جان،،،،اب،،،،،،،،
یہ سب کچھ قدرت کو
منظور نہیں تھا
ھماری نیتیں۔ ھمارا ایمان
ھماری عبادتیں۔ ھماری خدمات
ھماری سوچیں۔ ھمارا رویہ
ھمارا غرور۔ ھمارا تکبر
اور بہت کچھ ھمارا
قدرت کو فطرت کو
ناگوار گذرا ھے
کیونکہ ھر طرف
اب سکون ھے
مگر دل کو سکوں نہیں،،،،،،
امن و امان ھے
مگر نفسانفسی کے
اس عالم میں
وہ بھی میسر نہیں،،،،،،،،،
ھرے بھرے درخت اور
کھیت کھلیان
اپنی اپنی جگہ پر موجود ھیں
مگر گھر سے
نکلنے پے پابندی ھے،،،،،،،
اھلٍ خانا نظروں کے سامنے
مل بیٹھنے کی جستجو،
جستجو رھی۔
کام سے لمبی چھٹی کی
خواھش پایٸے تکمیل کو
پہنچی تو سھی
پر کسی کے بھی کام نا آٸی،،،
ھم نے کبھی سوچا بھی نا تھا کہ
ھم اپنی
ثقافت اور روایات سے
دور ھو جاٸيںگے۔۔۔۔۔!!!!
گلے لگانا /ھاتھ ملانا
خوف و بیماری کی علامات میں
شامل ھوجاٸیگا!!!!!
ھماری نیتیں اور عبادتیں
ایک دوسرے کے الٹ ھیں
مگر رب تو
دونوں کو دیکھ رھا ھے
اور اس کے دیکھتے دیکھتے
مہلت ختم ھو گٸی
اور ھمیں پتہ بھی نا چل سکا
نجانے کہاں سے کرونا آگٸی
آتے ھی
دنیا میں چھاگٸی۔۔۔۔۔۔!

Comments are closed.