چپکے چپکے آیا ہے تو بن کر چور

(ڈاکٹرمحمّد اِقبال صمصام)

چُپکے چُپکے آیا ہے تو بن کر چور
نام ترا ہے، سب کہتے ہیں آدم خور

موسم گل ہے اور قرنطینہ میں لوگ
دیکھ خزان بہاروں میں، ہے ایسا دور

تنہا تنہا سہمے سہمے رہتے ہیں
جیتے جی بچھڑے ہیں اپنے بھی اس طور

آج فلک نے دیکھا ہے یہ منظر بھی
دفنائیں مُردوں کو بیگانے فی الفور

حاکم بھی اب سارے بے کل رہتے ہیں
کورونا نے توڑا ہر آمر کا زور

ویرانی سی ویرانی ہے گُلشن میں
میٹھا شہد لگے ہم کو اب کڑوا تھور

چکھ مزہ روز محشر کا تُو بھی اب
کرتا رہتا تھا تو ہم پر ہر پل جور

کر صمصامؔ دُعا اللہ رکھے محفوظ
عاجز بندے ہیں اُس کے، ہم ہیں کمزور

Comments are closed.