دعا

(سید شاہد حسین شاہد)

محمدﷺ کے وسیلہ سے رفع افتاد کر مولا
دلِ انسان کو خوشیوں سے پھر آباد کر مولا
وبا بن کر جو انسانوں کی ہر بستی پہ چھائی ہے
کرونا کو ہر اک قریہ سے تو برباد کر مولا
محرک ہیں جو دنیا میں وبائے جان لیوا کے
انہیں اپنی ہی قدرت سے سدا ناشاد کر مولا
کرونا کے جو وائرس سے وبا پھیلی ہے دنیا میں
کوئی تریاق اس کے واسطے ایجاد کر مولا
کرونا کے مرض میں مبتلا سارے مریضوں کو
وسیلے عابدِ بیمارؑ کے دلشاد کر مولا
’’ قرنطینہ مراکز‘‘ میں پھنسے لاکھوں جو قیدی ہیں
شفایابی عطا کر کے صفر تعداد کر مولا
مسیحا بن کے روز و شب کھڑے ہیں جو مریضوں پر
تو ان سارے طبیبوں کی اب استمداد کر مولا
مدد کو جو جواں ہیں اور افسر آرمی کے ہیں
انہیں ان کے ارادوں میں تو ہی فولاد کر مولا
جو دامے درمے اورسخنے مدد کو ہیں لپک آئے
وہ سب احسن جزا سے سرفراز افراد کر مولا
ذرائع روزی کی بندش سے جتنے بھی پریشاں ہیں
کشادہ ان کی روزی کرکے تو دلشاد کر مولا
ترے اسباب کی امید کرتے ہیں جو ہر لمحہ
توان کی اپنے دستِ خاص سے امداد کر مولا

مجھے تیری مشیت کی ذرا سی بھی سمجھ کب ہے
مری بخشش کو رحمت کا کوئی ارشاد کر مولا
بجاہِ رحمت اللعالمیں ﷺ شاہد ؔگداگر کی
جلی ہے یا خفی ، منظور ہر فریاد کر مولا

Comments are closed.