خالی راہیں، باہیں خالی ، ھر چہرہ ویران

(علی کمیل قزلباش)

*کورونائی غزل*
خالی راہیں، باہیں خالی ، ھر چہرہ ویران

خالی خالی آنکھیں ، خالی دل کا بھی دالان

رونق ، رنگ اور نور ، نظارے سارے ماند مدھم

شور شرابہ ، موج و مستی ، آوازیں بے جان

بحروبر کی تسخیروں کے منتر سب بے کار

علم کے دریا ، سائنس کی چکی چلنے سے انجان

دین و دنیا کے رکھوالوں کے سکے سب کھوٹے

دم ، دعائیں ، دارو درمل والے بھی حیران

چور اچکے نیک ہیں ،غنڈے، قاتل سب شریف

بم برسانے والوں کے بم ناکارا سامان

لوٹ، کھسوٹ اور دھمکی دینے والے سب خاموش

جیسے قرنطینہ کے واصل ہوں سارے شیطان

عشق ، محبت ، عہد وفا ،سب بھول گئے عشاق

نا اب کوئی جان رہی ہے نا کوئی جانان

منبر، مسجد ،گرجا ، مندر، زیارت، رقص ، طواف

سب اس کے اندر ہی ہونگے جس میں ہو ایمان

فطرت ، موسم زندہ سارے ، سب پرند چرند

آب ہوا اور سبزہ ، رنگیں پھول ، چمن کلیان

آقا، نوکر، پست ، بلند اور مشرق مغرب تک

سانس کی ڈوری کی سختی سے ایک ہوا انسان

Comments are closed.