کوئی تو آواز میں آواز ملائے

(فاروق بیگ)

اب تو بہت دن ہوگئے
کوئی تو آواز میں آواز ملائے
چیخے کوئی بہت زور سے
کانوں کے پردے پھٹ جائیں
آسمان کا دل دہل اُٹھے
اک ننھے بچے کو دودھ نہیں ملا
اک بڑھیا کو دوا نہیں ملی
شہریوں کو ۔۔۔۔تازہ ہوا نہیں ملی
۔۔۔۔۔۔۔۔
آواز میں کوئی تو آواز ملائے
کوئی چیخے بہت زور سے
چیختا ہی چلا جائے
کہ دم رک جائے
کتنے دن ہوگئے
کوئی فریاد سنتا ہی نہیں
دم گھٹتا بھی نہیں
سانس رکتی بھی نہیں
۔۔۔۔۔۔
آواز میں کوئی تو آواز ملائے
میں اک کشمیری ہوں
میں فلسطیں میں رہتا ہوں
ہر دم لڑنے کو تیار
قید ہوں کئی سالوں سے
کوئی بولتا نہیں کوئی چیختا نہیں
میرا رب ہی میرا بھروسہ ہے
تُم تو خود دُبکے بیٹھے ہو
اک ان دیکھی مخلوق سے
۔۔۔
اب تو کوئی آواز میں آواز ملائے
لمن الملک الیوم
للّٰہ الواحد القہار
—————-
منزل گم گشتہ
اے ہم سفردیکھو ذرا
ایک نظرتلاش کی
نشانات منزل ہیں کہاں ؟
کھو گیا ہے راستہ
راہی ہیں پریشاں
پیچھے بہت دُورہیں
گھر کے نشاں
ابھی کچھ پتا ہی نہیں
جانا ہے کہاں۔۔۔
کوئی تو بتائے
راستہ۔۔۔منزل کا
سبق ہے بھول گیا
اتالیق ہے کھو گیا
مرشد ہے گم شدہ۔۔۔
بھیڑوں کے گلے پر
تاک لگائے ہےبھیڑیا۔۔۔
یہ ہے مجھے پتا
پھر بھی ہوں بے خانماں
کھو گیا ہے ناخدا
پتوار ہیں توڑ دیے
منظروں میں کھوکر
راستہ ہوں بھول گیا۔۔۔
اے ہم سفر
ذرا اک نظر۔۔۔تلاش کی

Comments are closed.