اندیکھی زنجیر میں جکڑے

(ادریس بابر)

عشرہ // ممکن

اندیکھی زنجیر میں جکڑے
انہونی کے خوف میں پکڑے
ڈر کے مارے ہنستے رہے ہم
اس سے کم کیا کر سکتے تھے
جی سکتے ہیں، مر سکتے تھے
اپنے اندر بستے رہے ہم
ہر کوئی، اپنی جگہ نہتا
ثابت ہوا! انسان، کپتا
خود سے مقابلہ کر سکتا ہے
ڈوبتے ڈوبتے تَر سکتا ہے

Comments are closed.