پیدا فلک زمیں پر کیا دور کر رہا ہے

(ادریس بابر)

عشرہ // نادمی نامہ

پیدا فلک زمیں پر کیا دور کر رہا ہے
شر شور کر رہا ہے، زر زور کر رہا ہے
جس تس کو دیکھیں کچھ وہ بے طور کر رہا ہے
کچھ کر رہا ہے اور نہ کچھ اور کر رہا ہے
بیکار کیوں؟ برابر یہ غور کر رہا ہے
سگرٹ کو فرض (مرضی!) اک مور کر رہا ہے
یا ظلم سہہ رہا ہے، یا جور کر رہا ہے
دریا دلوں کے اندر اک شور کر رہا ہے
بس، بور ہو رہا ہے، اور بور کر رہا ہے
جو ہم کرے ہیں سارا لاہور کر رہا ہے

Comments are closed.