حصارِ مسیحائی

(شکیل کالاباغوی)

یہ کیا ہوا؟
اے رہروانِ دشتِ زیست!
اے ساکنانِ کائناتِ ناتواں! کیا ہوا؟
دریا، سمندر، آبجو، یہ ندّیاں
سہمی ہوئی لہروں کی سینہ کوبیاں!
اٹکھیلیاں کیوں ابر سے ہیں بدگماں؟
خاموشیاں
شہنائیاں
برسات، دھوپیں، روشنی ، بادِ صبا
یہ چنریاں
ہیں منتظر !!
ہاں! منتظر ہیں لمسِ مشتِ خاک کی!!
یونہی نہیں لپٹی چراغِ زیست سے مرگِ نہاں !!
فرصت ملے تو سوچنا!!

بے راہ روی کی فصل اور شادابیاں؟
خود پسندی کا محل اور جھومتی راہداریاں؟
نخوت، تکبر اور انا کے زعم میں ۔۔۔۔۔۔بے باکیاں؟
نوبتِ گھڑیال
ساعتِ تخفیف پہ ٹھہری ہوئی یہ سُوئیاں!
نغمہءِ امروز میں
سوزِ نہاں۔۔۔۔آہ و فغاں
کوچہ و بازار میں گونگے، بہرے اور لاتعلقی سے گندھے تعلقات کی طنز آرائیاں
مَحبَس خانوں میں زندگی کی سسکیاں
سانسوں کا زندگی سے گریز
احساسِ لمس کی مادیّت سے گریز پائی
کایا پلٹ اثرات کا حامل معمولی سا محاصرہ!!
سمندری جھاگ کی طرح ‘آلودہ فریادیں
کھجور کے تنے جیسا اکڑتا بدن ایسے ہوگیا
جیسے
پیاس زدہ خشک لٹکتی زبانیں
گھٹا ٹوپ اندھیرا
آس اور نراس کی انکھ مچولیاں
پردہءِ زنگار پر روشنی کا جھماکا
دودھیا سفید کرنوں کی جھلملاہٹ
لطیف و گداز غیر مرئی حصار
جس کی طنابیں گویا چرخِ کہن تک کھنچی چلی گئی ہوں!!
زندگی اور موت کے مابین
مبارزتِ حقیقی کا نبھاؤ!!
افلاک سے برستی امید کی بوندیں
موت کے پنگھوڑے میں دھیرے دھیرے زندگی کو آبِ حیات پلاتے دودھیا لمس
حصارِ مسیحائی میں اسیرِ مرگ کی لن ترانیاں!!!!

Comments are closed.