ہر ایک شخص بلائیں اٹھائے پھرتا ہے

(ڈاکٹر فرحت عباس)

غزل.

ہر ایک شخص بلائیں اٹھائے پھرتا ہے
طرح طرح کی وبائیں اٹھائے پھرتا ہے

یہ کیسا خوف ہے دنیا پہ آج چھایا ہوا
کفن فروش قبائیں اٹھائے پھرتا ہے

خدائے پاک کا مجھ پر کرم ہے ہر لمحہ
مجھے جو بائیں سے دائیں اٹھائے پھرتا ہے

فقیر ِ راہ دعاؤں کی شکل میں اب بھی
طرح طرح کی دوائیں اٹھائے پھرتا ہے

غریبِ شہر پہ رحمت خدا ہی فرمائے
دعا کو اپنی ردائیں اٹھائے پھرتا ہے

ہوائے دشت ِ قضا سر بسر ہے عالم میں
ہجوم پھر بھی ردائیں اٹھائے پھرتا ہے

بس ایک درد کا مارا، زمین زادہ بھی
زمیں کی ساری بلائیں اٹھائے پھرتا ہے

فریفتہ ہے ہر اک پر اگر ملے موقع
یہ وائرس تو ادائیں اٹھائے پھرتا ہے

وہ ایک زہر ہے تریاق جس کو کہتے ہیں
شِفا نہیں وہ شَفائیں اٹھائے پھرتا ہے

اسے خبر ہےکہ مقتل میں مارا جائے گا
مگر وہ پھر بھی صدائیں اٹھائے پھرتا ہے

ہماری سوچ بھی اک لاش ہے کہ وقت جسے
جدھر جدھر کو جائیں ،اٹھائے پھرتا ہے

حصار ِ موج سے اُلجھا، نفس کا مارا ہوا
یقیناً اپنی خطائیں اٹھائے پھرتا ہے

اب اعتبار جہاں کب کسی کا ہو فرحت
وفا شعار جفائیں اٹھائے پھرتا ہے

Comments are closed.