گھر میں بیٹھے خوف طاری ہے

(افضل صفی)

گھر میں بیٹھے ہیں خوف طاری ہے۔
ہاتھ خالی ہیں جنگ جاری ہے۔

برف پگھلی ہے میرے اندر سے
کون کہتا ہے اشک باری ہے۔

میرے مالک بچا کرونے سے
اس کا سانسوں پہ وار کاری ہے۔

اک تخیل میں اڑتا جاتا ہوں
بادلوں پر مری سواری ہے۔

تم نے خوش بو کے ہاتھ کاٹے ہیں
ہم نے پھولوں پہ جان واری ہے۔

میں نے خود کو ملا دیا خود سے
آ ج یہ فتح مجھ پہ بھاری ہے۔

آ ئنہ بوکھلا گیا تھا صفی
میں نے تیری نظر اتاری ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وبا کے ضابطے بڑھنے لگے ہیں
سماجی فاصلے بڑھنے لگے ہیں۔
ہمارے عکس بجھتے جارہے ہیں
چنانچہ آئینے بڑھنے لگے ہیں۔
تحیر ہے اداسی ہے یہ کیا ہے
کہ ہر سو دائرے بڑھنے لگے ہیں۔
کرونا ہے کہ سازش ہے کسی کی
دلوں کے وسوسے بڑھنے لگے ہیں۔
خدائے عزوجل ہم پر کرم کر
ہمارے مخمصے بڑھنے لگے ہیں۔
قدم تیزی سے پیچھے ہٹ رہے ہیں
صفی اب راستے بڑھنے لگے ہیں۔

Comments are closed.