پھیکا ہے اگر رنگِ سحر رات گھنی ہے

(وسیم عباس)

پھیکا ہے اگر رنگِ سحر رات گھنی ہے
بے رنگ فضائیں ہیں، بہت جاں پہ بنی ہے

بازار ، گلی ، کوچے ہیں ویران اگرچہ
رستے ہوئے جیون کےبھی سنسان اگرچہ

گھبرائی ہوئی حضرتِ انساں کی صدا ہے
رگ رگ میں سمایا ہوا جو خوفِ وبا ہے

سہما ہوا ہر شخص سہی خوف سے لیکن
وقت ایک جگہ ٹھہرا رہے یہ نہیں ممکن

یہ وقت بھی اِک روز گزر جائے گا آخر
اِک روز چہک اٹھیں گے ہر شاخ پہ طائر

مایوس نہیں ہونا کہ یہ جرم نہ کرنا
اُمید کے دامن کو نہ ہاتھوں سے جھٹکنا

جینا اِسی اُمید کے دامن سے لپٹ کر
آجائیں گے دن اچھے بھی اِک روز پلٹ کر

Comments are closed.