محنت کش دیہاڑی مار

(ڈاکٹرمحمّد اِقبال صمصامؔ)

محنت کش دیہاڑی مار
گھر میں بیٹھے ہیں بیکار

بُھوک ستاتی ہے اُن کو
اور نہیں کوئئ غم خوار

کورونا سے لڑتے ہیں
کھاتے ہیں غُربت سے مار

مار رہی ہے اُن کو بُھوک
اُن کی قبریں ہیں تیّار

بلخی دُنبے کھا کھا کر
خوش ہیں سب سرمایہ دار

تصویریں کھنچواتے ہیں
دے کر دمڑی وہ ہر بار

دیس میرے کے رہبر بھی
بُھوکے بُھوکے ہیں بیمار

کرتے ہیں جو رزق تلاش
ڈھیرانوں نالی میں یار

گھر میں ہیں وہ اب محبُوس
ماریں خالی پیٹ ڈکار

تُو ہی حاجت مندون کی
اُٹھ صمصامؔ خبر لے یار

Comments are closed.