کورونا کا شور مچا

(ڈاکٹرمحمّد اِقبال صمصامؔ)

کورونا کا شور مچا
رہنا ہے محتاط ذرا

بے بس ہے دُنیا ساری
ڈھیر لگا ہے لاشوں کا

لاف زنی جو کرتے تھے
اُن کا بھی ہے حال بُرا

آگ لگی نمرودوں کو
پانی میں فرعون بہا

تُو بھی تنہا رہتا ہے
غائب ہے محبوب ترا

چھوڑ حرام کمائی تُو
رزق حلال کما کے کھا

سچّے دل سے توبہ کر
کر کے اچھے کام دکھا

کھا پاکیزہ رزق سدا
ہوگی بھی مقبول دُعا

بن کر اب تُو مرد دکھا
کورونا کو مار گرا

اللہ تیرا مالک ہے
پکّا ہے ایمان ترا

با ہمّت ہی زندہ ہیں
دُنیا میں صمصامؔ سدا

Comments are closed.