کرونا سے ذرا پہلے

(اشرف جاوید ملک)
نظم
کرونا سے ذرا پہلے
ہمیں جو روز ملتا ہو
جو ہم سے عشق کرتا ہو
ہمیشہ ہم پہ مرتا ہو
اچانک دور ہو جائے
بہت مجبور ہوجائے
کوئی بھی رابطہ نہ ہو
اک دوجے سے ملنے کا
کوئی بھی ضابطہ نہ ہو
تو کیا اس موڑ پر آ کر
محبت روٹھ جاتی ہے?
نہیں ایسا نہیں ہوتا
وبا کے عارضی لمحے
اگر دائم محبت کو تہ و بالا
بھی کر دیں تو
محبت سانس لیتی ہے
محبت مر نہیں جاتی
محبت تو محبت ہے
کسی کی ہو بھی جائے تو
کسی کی ہو نہیں جاتی
جدائی فرض بھی ہو تو
یہ وقفہ عارضی شے ہے
کرونا کی وبا میں ہم
اگر مجبور ہیں تو کیا
اگر ہم ان سے اوجھل ہیں
وہ ہم سے دور ہیں تو کیا !
سماجی فاصلہ آخر تو اک دن
ختم ہونا ہے
ہمیں پھر سے سنبھلنا ہے
ہمیں پھر ایک ہونا ہے
یہ جیون جو
طلب کی کھونٹیوں پر
پچھلے کچھ ہفتوں سے لٹکا ہے
اسے پھر سے اجلنا ہے
ہمیں پاوں پہ چلنا ہے

Comments are closed.