کروناوائرس کےدورمیں خلوت گزیں لوگو

(خالد محمود صدیقی)

کروناوائرس کےدورمیں خلوت گزیں لوگو
تمھارایہ عمل حکمت سےخالی تونہیں لوگو
حیات و موت کی پیکار تو آدم سے جاری ہے
رہا خالی جدل سے کب یہ کرّہء زمیں لوگو
جدل میں جیت ان کی ہے جو آگے بڑھ کے لڑتے ہیں
کرونا سے بھی جیتو اس جہاں کے سب مکیں لوگو
سماجی فاصلہ رکھ کرہمیں آپس میں ملناہے
مگرہاتھوں سے ملنا کیا،کشادہ ہو جبیں لوگو
حفاظت ماسک سے ہوگی ہمارے ناک اورمنہ کی
اور اب تو ماسک کا فیشن ہے کتنا دل نشیں لوگو
اگر تم بیس سیکنڈز تک جو اپنے ہاتھ دھوٶگے
کرونا ایڑیاں رگڑے مرے گا پھر وہیں لوگو
صفائی نصف ایماں ہے،یہ جاں کی ہو یا مسکن کی
وبا پھیلے! بھلا ایسی وراثت کے امیں لوگو
یہ چندباتیں جو کہہ دی ہیں،یہی تو ہیں علاج اس کا
ذرا ڈرنا نہیں ہے اب کروناسے حزیں لوگو
خدا نہ خواستہ خالدکسی میں وائرس ہو یہ
تو چودہ دن سے کم اس کا قرنطینہ نہیں لوگو

Comments are closed.