استغاثہ در بارگاہِ خالقِ کائنات عزوجل

(شوکت محمود شوکت)
ہر طرف خوف ہے ہر طرف کال ہے اک وبائے عجب سے ، عجب حال ہے
زندگی کی ہوئیں ختم سب رونقیں بیس سو بیس کیا بد شگن سال ہے
قید گھر میں ہیں وہ ، جو کہ آزاد ہیں
محوِ گریہ ہیں سب ، محوِ فریاد ہیں
کوئی کہتا ہے محشر ہے نزدیک اب کوئی کہتا ہے ناراض ہے ہم سے رب
کوئی کہتا ہے ، طاغوت کی چال ہے کوئی کہتا ہے اعمالِ بد ہیں ، سبب
کچھ سمجھ میں نہ آئے ، یہ کیا بات ہے
عالمِ ہست ، جائے مکافات ہے
دوستی کے وہ قصے پرانے ہوئے کیا سے کیا عاشقی کے فسانے ہوئے
بھاگتا ہے یہاں بھائی بھائی سے اب بھائی چارے کو بیتے زمانے ہوئے
الاماں ! الاماں ! دورِ بے گانگی
آدمی سے ہے بے زار اب آدمی
پوچھتا ہی نہیں کوئی ’’ اچھے ‘‘ کو اب جاں کے لالے پڑیں ’’ سیدھے سچے ‘‘ کو اب
نفسی نفسی کا عالم ہے اب اوج پر ماں پلاتی نہیں دودھ بچے کو اب
گرم جوشی سے احباب جو ملتے تھے
ہاتھ بھی وہ ملانے سے اب کے گئے
حیف! بدلا ہے یوں زندگی نے چلن شہر میں لاش دیکھی گئی بے کفن
سخت کیوں کر ہوا ہے حصارِ خزاں شور و غوغا بپا ہے چمن در چمن
بے یقینی کی ایسی فضا چھائی ہے
موت سے پہلے جیسے کہ موت آئی ہے
مسجدوں کے جو کُھلتے تھے تالے، ہیں بند بند ہیں یہ کلیسا، شوالے ہیں بند
جو جہاں تھا وہیں کا وہیں رہ گیا آنے والے ہیں گم ، جانے والے ہیں بند
منزلیں گم ہوئیں ، قافلے گم ہوئے
فاصلے بڑھ گئے ، رابطے گم ہوئے
میرے مولا! بجا، تجھ سے ہم دور ہیں عرقِ عصیاں میں مانا شرابور ہیں
رحم کر، ہم پہ مالک! بحقِ نبی ؐ ہم تو عاجز ہیں، بے بس ہیں، مجبور ہیں
لمحہ بھر میں بدل دے یہ حالات اب
بارآور ہوں سب کی مُناجات اب

Comments are closed.