فریاد

(ڈاکٹر مقصود جعفری)

دل نے نکالی فال یہ دل کی کتاب سے
ہیں خواب میں ھنوز جو جاگے ہیں خواب سے
قوم ثمود و عاد ہو یا قوم نوح ہو
قومیں نہ بچ سکیں ترے قہر و عتاب سے
جو ابرھہ کا لشکر جرار آیا تھا
خاشاک بن کے بکھرا ترے التہاب سے
فرعون غرق نیل بہ موج رواں ہوا
اس کا غرور خاک ہوا موج آب سے
روز حساب آنے سے پہلے یہ کیا ہوا
خوف وبا کا ربط ہے روز حساب سے
بہر خدا نگاہ کرم ہم پہ کہہجیے
فریاد ہے یہ میری رسالتمآب سے
پروردگار میری خطائیں معاف کر
نسبت ہے تیرے جعفری کو بوتراب سے

Comments are closed.