کیا زمیں کی خاک ہو جائیں گے ہم

(شہزاد بیگ)

غزل

کیا زمیں کی خاک ہو جائیں گے ہم
اور فضا میطں راکھ ہو جائیں گے ہم

کٹ رہی ہے جس طرح سے زندگی
دامن۔صد۔چاک ہو جائیں گے ہم

کیا کفارہ کرسکیں گے ہم ادا
اور گنہ سے پاک ہو جائیں گے ہم

خوف رقصاں ہے در و دیوار پر
خوف سے خاشاک ہو جائیں گے ہم

اس صدی کے بعد بھی ہے اک صدی
اس صدی کی خاک ہو جائیں گے ہم

کیا ہمارے نقش مل پائیں گے یا
گردش۔افلاک ہو جائیں گے ہم

مر نہ جائیں رفتہ رفتہ وہم سے
اور گھروں میں لاک ہو جائیں گے ہم

خوف کے موسم میں کیا شہزاد بیگ
صورت۔ نمناک ہو جائیں گے ہم

Comments are closed.