تم نے جو سنا ہے وہ سنایا تو نہیں ہے

(افشاں شیخ)

تم نے جو سنا ہے وہ سنایا تو نہیں ہے
دل اپنا دکھا ہے ، دکھایا تو نہیں ہے

کر لی ہے ضبط ربط کی ساری مصیبتیں
شکوہ سُنا ہے ، تم کو سنایا تو نہیں ہے

معلوم ہو گٸیں ہیں جب ساری اذییتیں
خود سہہ لیا ہے، تم کو ستایا تو نہیں ہے

اپنا پرایا جان کر ساری حقیقتیں
تڑپا لیا ہے ، تم کو آزمایا تو نہیں ہے

صد شکر کہ آخر ہیں سبھی سانسیں
بدلہ دیا ہے ، بدلہ چکایا تو نہیں ہے

Comments are closed.