گیت

(شاہ زیب انجم)

یہ زمیں ہے تری، ہے ترا یہ جہاں
جس میں چاو سے تُو نےرکھا یہ انساں
آج انساں وبا کے نشانوں پہ ہے
اور کہیں دُور تُو آسمانوں پہ ہے
چھوڑ کر آسماں ، آ کے دیکھو یہاں

وہ جو بُوڑھے تھے کمزور و لاچار تھے
گھر کی برکت ، بہار اور سردار تھے
لے گئی موت کے منہ میں اُن کو وبا
جن کے بِن گھر وہ گریہ کی دیوار تھے
کتنی مشکل گھڑی انسانوں پہ ہے
اور کہیں دُور تُو آسمانوں پہ ہے
چھوڑ کر آسماں آ کے دیکھو یہاں

قید گھر میں ہوئے ہیں یہ مجبور ہیں
کر کے مزدوری کھاتے ہیں مزدور ہیں
مَن و سلویٰ گِرا ہے تُو رازق خُدا
چِیختے ہیں یہ بُھوکے تُو کیوں دُور ہے
سہمی سی خَامشی اِن گھرانوں پہ ہے
اور کہیں دُور تو آسمانوں پہ ہے

چھوڑ کر آسماں آ کے دیکھو یہاں

Comments are closed.