خموش حضرت انسان تھے کوئی دن تھے

(گوتم ملتانی)
خموش حضرت انسان تھے، کوئی دن تھے
وبا تھی اور پریشان تھے، کوئی دن تھے

یہ زندگی کبھی معمول سے ہٹی نہیں تھی
تمام مرحلے آسان تھے، کوئی دن تھے

یہ جتنی آنکھیں ہیں، حیران تھیں، کوئی شب تھی
یہ جتنے دل ہیں، یہ ویران تھے، کوئی دن تھے

او چار غزلیں لیے قریہ قریہ گھومتے شخص
ہمارے بھی کئی دیوان تھے، کوئی دن تھے

نہ تھا زمین پہ گوتم کوئی کسی کا دوست
شجر پرندوں سے انجان تھے، کوئی دن تھے

Comments are closed.