بھوک سے رو رہے ہیں بچے بھی

(محمدنوید مرزا)

بھوک سے رو رہے ہیں بچے بھی
اور بڑے صبر کرنے والے ہیں
خود پہ یہ جبر کرنے والے ہیں
اے خدا رحم ان غریبوں پر
رو رہے ہیں جو اب نصیبوں پر
ان کے منہ میں کوئی نوالہ ہو
زندگی بخش اِک حوالہ ہو
اے خدا ہم گناہ گاروں پر
اپنی رحمت کا آج سایہ کر
اس وبا کے سُلگتے موسم میں
درد کی ساعتیں پکارتی ہیں
دُکھ میں چہرے سوال کرتے ہیں
دشت غُربت میں لوگ پوچھتے ہیں
کیوں حیات اتنی آزمائی تھی
اے خُدا بھُوک کیوں بنائی تھی؟
—————-

غزل
جہاں حیات کے لمحے نماز پڑھتے ہیں
وہیں طیور بھی آ کے نماز پڑھتے ہیں
ہجوم پر تو عدو وار کرنے آیا ہے
اسی لیے تو اکیلے نماز پڑھتے ہیں
گلی میں شور مچانا بھلا دیا جب سے
گھروں میں بیٹھ کے بچے نماز پڑھتے ہیں
کہیں سے آ کے جھکاتے ہیں سر درختوں پر
ہمارے گھر میں پرندے نماز پڑھتے ہیں
قضا بھی آئی ، تو عشقِ نبیؐ میں آئے گی
چلو مدینے میں جا کے نماز پڑھتے ہیں
قلندروں سے اگر دوستی نبھائو گے
تمہیں بتائیں گے کیسے نماز پڑھتے ہیں
اذان دیتے ہیں دن رات وہ چھتوں پہ نویدؔ
ہمارے شہر کے بوڑھے نماز پڑھتے ہیں

—————-

غزل
گھر میں رہ کر بھی آزادی ہوتی ہے
تنہائی کی بھی آبادی ہوتی ہے
اپنے عدد سے ہنس کر باتیں کرتا ہوں
یہ کوشش بھی غیر ِارادی ہوتی ہے
میں اپنے دشمن کے بھی کام آتا ہوں
میری ہر کوشش امدادی ہوتی ہے
ایک ستم کی تیغ وبا ڈھلنے سے
پل میں صدیوں کی بربادی ہوتی ہے
بعض اوقات پرائے دل میں رکھتے ہیں
ہم نے جو اِک بات بھلا دی ہوتی ہے
سب کچھ ڈال دیا جاتا ہے قِصے میں
خلقت جن باتوں کی عادی ہوتی ہے
اس ان دیکھے قاتل سے بچ کر رہنا
شہر کے اندر روز منادی ہوتی ہے

—————-

ایک دعائیہ نظم
اپنی رحمت میں چُھپالے مولا
اس مصیبت سے بچا لے مولا
ہم ہیں کمزور معافی دے دے
کوئی تدبیر ہی شافی دے دے
اس وبا کو ہی اٹھا لے مولا
اس مصیبت سے بچا لے مولا
بھوک اور پیاس سے بچے چپ ہیں
بولنے والے یہ سچے چپ ہیں
بھیج دے ان کو نوالے مولا
اس مصیبت سے بچا لے مولا
اُمتی ہیں ترے محبوبؐ کے ہم
اے خدا ہم پہ کرم ، ہم پہ کرم
ہم ہیں سب تیرے حوالے مولا
اس مصیبت سے بچالے مولا

—————-

سرکار مدد
ایک دعا بحضور سرکارِ مدینہؐ
شہر کا شہر مدد کا ہے طلب گار، مدد
ہم ہیںکمزور بہت اب تو ہو سرکار مدد
ہم نے اک عمر گناہی میں گُذاری تو کھلا
آپ ہی کرتے رہے ہیں مری سرکار ، مدد
ہاتھ اٹھائیں تو خدا ہم پہ عنایت کر دے
آپؐ کے سایۂ رحمت کی ہے درکار مدد
اب تو ہر وقت اذانوں کی صدا آتی ہے
ہم سے بڑھ کر ہے کہاں کوئی شرمسار ، مدد
زندہ رہنے کے لیے روز دعا مانگتے ہیں
ہر طرف پھیل گئے موت کے آثار ، مدد

—————-

Comments are closed.