ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ

(وسیم جبران)

ابھی موسم نہیں بدلا، ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ
چمن پھر سے ہرا ہو گا، ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ

بہاریں پھر سے آئیں گی، پرندے چہچہائیں گے
کھلیں گے پھول بھی کیا کیا، ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ

انہی ویران گلیوں میں وہ رونق پھر بپا ہو گی
نگر ہو گا یہ پھر ویسا، ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ

دلوں سے دل ملیں گے پھر ملاقاتیں بہم ہوں گی
ہے بس کچھ دن کا سناٹا، ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ

کبھی سورج بھی نکلے گا اسی شب کی سیاہی سے
اُٹھے گا رات کا پہرہ، ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ

ابھی ہے دھند کا منظر، دھواں پھیلا ہے آنکھوں میں
نظر آ جائے گا چہرہ، ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ

سنو! ہم دستِ ہمت سے اگر اک بند باندھیں تو
پلٹ سکتا ہے یہ دریا، ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ

یہی اجڑے ہوئے جبران گھر آباد بھی ہوں گے
بسے گی پھر سے یہ دنیا، ابھی کچھ دن ٹھہر جاؤ

Comments are closed.