تنہاٸی وائرس

(نثار احمد)

وہ بھی، جو تیرے پاس نہ ہونے سے مرگیا
سمجھا گیا وہ شاید “کرونے” سے مرگیا

مرتے ہی آ رہے ہیں یُوں تو ازل سے لوگ
ہائے جو محض ہاتھ نہ دھونے سے مرگیا

مرتا نہ گر وبا سے ، تو مرتا وہ بھوک سے
نازک سفید پوش تھا، رونے سے مرگیا

کندھا نہ دے سکا جو میّت کو باپ کی
بیٹا حواس رنجّ میں کھونے سے مرگیا

دولت کی وہ ہوس تھی کہ تاجر کا بھی ضمیر
جب جاگنے کا وقت تھا، سونے سے مرگیا

پرہیز نہ کیا جو مذاہب کی آڑ میں
مذہب کا اپنے نام ڈبونے سے مرگیا

جتنے مرے ہیں ، میرے ہی اپنے تھے وہ نثار
مَیں سب کے غم میں پلکیں بھگونے سے مرگیا

Comments are closed.