یہ کیسا وقت آگیا

(پروفیسر سبین یونس)

ہوں زیروبم زمیں کے
یا قوس آسمان کے
زاویے بدل گئے

تعلقات پر ہوس کی
دھول ایسے جم گئی
کہ خون و دل کے
رابطوں کے مول
لگنےلگ گئے

قربتوں کے دور نے
دوریاں ایجاد کیں
جسم وجان کی
طاقتیں
نیند کے خمار نے،
کاہلی نے
سلب کیں
غفلتوں نے پیار میں
فاصلے بڑھا دئیے

محبتوں کے شہر میں
نفرتوں کی آگ نے
راستے جلا دئیے
جہاں سے اہل دل کئ
وفا کی لاش کھینچتے
پیٹتے گزر گئے

عزت و وقار کیا
خلوص کا معیار کیا
شعور و آگہی کی حد
خسارہ و نفع کی مد
معیشت و معاشرت
کے نظریے بدل گئے

دفعتاً ہوا چلی
سلسلے بکھر گئے
عجیب سی ہیں الجھنیں
حکمتیں بھی گنگ ہیں
فلسفہ خاموش ہے
ہیں گو مگو میں منطقیں
بے بسی کی انتہا
کوئی جانتا ہے کیا
کس کا ہے یہ فیصلہ
کیا زمیں کی طاقتیں
ہو گئیں ہیں سر نگوں
آسماں کو مل گیا
ابر بادوبار سے
طہر و صفا
کا عندیہ

Comments are closed.