دنیا کہے ہزار کبھی بھی نہ چھوڑنا

(پروفیسر اکرم ناصر)

> دنیا کہے ہزار٫ کبھی بھی نہ چھوڑنا
> تم سے کہا نہیں تھا٫ یہ رسی نہ چھوڑنا
>
> مرتا نہیں کوئی بھی٫ کبھی بھی٫ کسی کی موت
> مرنے کے خوف سے کبھی بستی نہ چھوڑنا
>
> تم حوصلہ نہ ہارنا ٫حالات جو بھی ہوں
> بس حوصلہ نہ ہارنا٫ بس جی نہ چھوڑنا
>
> مانے گا وہ ٫ کہ اس کا اسی پاس ہے علاج
> اٹھے ہوئے جو ہاتھ ہیں ٫جلدی نہ چھوڑنا
>
> چھوٹا ہے٫ پر یہ گھات میں رہتا ہے ہر گھڑی
> دیکھو کبھی بھی توبہ کی گھاٹی نہ چھوڑنا
>
> اب ہاتھ سے نہ چھونا٫ کبھی بھی کسی کا ہاتھ
> دل سے کسی کا ساتھ بھی٫ ساتھی نہ چھوڑنا
>
> اپنے حبیب کی مگر امت کو چھوڑ دے
> مرضی تری ہے ٫تو کوئی باغی نہ چھوڑنا
>
> تم آیۃِ کریمہ پڑھو جتنا پڑھ سکو
> اور ساتھ ذکرِ آیۃالکرسی نہ چھوڑنا
>
> رسی نے سانپ کی طرح چلنا تو تھا مگر
> اس نے کہا تھا پاؤں کی مٹی نہ چھوڑنا

Comments are closed.