آج کی غزل

(ناصر بشیر)

مَحبّت کے جہاں میں ہجر کا موسم کرونا ہے
چلو سوچیں، جُدا اِک دوسرے سے کیسے ہونا ہے
ابھی دریا کنارے توڑ کر باہر نہیں آیا
سکوتِ مرگ ٹوٹے گا تو پھر رونا ہی رونا ہے
اِسے توڑے،گِرائے یا اُڑا کر دُور لے جائے
ہَوا کے واسطے انسان چھوٹا سا کھلونا ہے
تمھارے بَس میں ہو تو بارشوں کو پھر سے لے آئو
مجھے برسوں سے اِس دِل پر لگا اک داغ دھونا ہے
ہماری زندگی ہے یا ہمارے گائوں کا میلہ
کسی کو کھو کے پانا ہے،کِسی کو پا کے کھونا ہے
ابھی شاخِ تمناّ پر بہت سے پھول کھِلنے ہیں
ابھی کچھ اور دِن اس زندگی کا بوجھ ڈھونا ہے
فلک پر چاند اور تارے سجانے سے ذرا پہلے
یہ سورج شام کے گہرے سمندر میں ڈبونا ہے
————
بند ہیں کُوچہ و بازار، خدا خیر کرے
شہر کِتنا ہے پُراسرار، خدا خیر کرے
کوئی اب شہر میں نکلے تو کہاں تک جائے
ہر قدم پر نئی دیوار، خدا خیر کرے
اب کہیں نقل مکانی بھی نہیں کر سکتے
ایک بستی کے خطاکار، خدا خیر کرے
لوگ مشکل میں ہیں سب ،چارہ گری کون کرے
شہر کا شہر ہے بیمار، خدا خیر کرے
کل تلک ہاتھ ملانے کے روادار نہ تھے
آج آئے ہیں مرے یار، خدا خیر کرے
نئی خبروں نے بہت شور مچا رکھّا ہے
یہ پرندے ہیں کہ اخبار، خدا خیر کرے
میرا کردار نہ دُنیا کو دکھا دیں ناصر
میرے بچّے ہیں اداکار، خدا خیر کرے
———–
ہمارے شہر کا موسم ہُوا کرونائی
ہجوم ڈھونڈنے نِکلا ہُوا ہے تنہائی
وبا وہ پھیل گئی ہے کہ پُھول مرنے لگے
کہاں سے زہر یہ بادِ صبا اُٹھا لائی
وہ خود کو شاملِ اہلِ وفا سمجھنے لگے
ہُوئے ہیں جب سے مقّید گھروں میں ہر جائی
عجیب رنگ دکھایا، فلک کی گردش نے
عروج موت نے پایا، حیات گہنائی
رقیب جیسا ہی کردار ہے کرونا کا
نہیں پسند اِسے دو دِلوں کی یک جائی
گُلاب سُوکھے ہوئے اور خار جوبن پر
یہ کیسی اب کے خدا نے بہار دِکھلائی
کسی سے ہاتھ ملائیں تو یہ کُھلے ناصر
ہماری شہر میں کِس کِس سے ہے شناسائی
———–
چارہ نہیں ہے اس کے سِوا، اور کیا کریں
رحمت خدا کی جوش میں آئے، دعا کریں
اپنے مکان کے کسی گوشے میں بیٹھ کر
بہتر یہی ہے، ذکرِ رسولِ خدا کریں
کیوں جائیں آج کوچہ و بازار کی طرف
کیوں زندگی کے حُسن کو نذرِ وَبا کریں
ممکن نہیں کہ آپ وبا کا شکار ہوں
ہاتھوں کو بار بار اگر دھو لیا کریں
مُوذی مَرَض کی ہم میں اگر ہوں نشانیاں
زیبا ہے اپنی ذات میں چھپ کر رہا کریں
کھانسی، زکام، نزلہ مسلسل اگر رہے
فوراً کِسی طبیب سے کچھ مشورہ کریں
گِرتے ہُوئوں کو تھام لیں، اچھّا ہے اب یہی
واجِب ہیں جِتنے قرض، وہ سارے ادا کریں
———–
مِل کے بیٹھے ہوئے لوگوں کو جُدا تُو نے کِیا
اے کرونا! تجھے معلوم ہے کیا تُو نے کِیا
گلے مِلتا ہے نہ اب ہاتھ مِلاتا ہے کوئی
اہلِ ایمان کو پابندِ جفا تُو نے کِیا
سب ترے نام پہ کرتے ہیں زر و مال وصول
ناخدائوں کو زمانے کا خدا تُو نے کِیا
تیرے بیمار اکیلے ہی پڑے رہتے ہیں
نعمتِ ہجر کو بھی ایک سزا تُو نے کِیا
کوئی سمجھے تو سہی، موت کے سنّاٹے کو
شہر در شہر عجب شور بپا تُو نے کِیا
تُو نے بھی موت کا امکان کیا ہے پیدا
کون سا کام زمانے میں نیا تُو نے کِیا
حکمرانی تری قائم نہ ہو کیوں دنیا پر
قتل انسان کا شمشیر بِنا تُو نے کِیا
—–

Comments are closed.