آفت پسند

(شکیل کالاباغوی)

تم کون ہو؟
بھوک؟ لالچ؟ ہوس؟
جہالت؟
یا پھر شجرِ مساوات کے کڑوے کسیلے ثمر؟
سنا ہے تمہیں نفرت ہے!
امن سے ، سکون سے، اعتدال سے
نظامِ عدل و مساوات سے
انسانوں اور انسانی اقدار سے
میں نے دیکھا ہے ۔۔بغور دیکھا ہے!
سیلاب، آندھی، زلزلہ، وباء
کوئی بھی آسمانی آفت ہو
تمہاری آنکھوں کی بھوک چمک اٹھتی ہے !!
تمہارے لاغر، نحیف بدن میں بجلی کے کوندے لپکنے لگتے ہیں
تمہاری کھال کا سکڑ پن
شادابی کے نگار خانے میں خوب سجتا سنورتا ہے
ان دنوں
آسمان پر چمکتا چاند’ صرف چاند ہی دِکھتا ہے
اور
انسانیت ‘ خود پسندی کے خول سے نکل کر
فطری انکسار کا بھرپور درشن کراتی ہے
آہ!!!!
تمہاری آفت پسندی
اِنہی عارضی تغیرات پر دال ہے
میں بہت شرمندہ ہوں…….
شاید!!! نہیں بھی

Comments are closed.