ذخیرہ اندوز

(نبیلہ اشرف)

زخموں پہ نمک لگا نے والے
سرکشی میں مچل رہے ہیں
غریبوں کا لہو جلانے والے
دہکتی آگ کو چل رہے ہیں
آٹے کی بوری چھپانے والے
مجرم خدا کا بن رہے ہیں
نوالے کی قیمت چڑھانے والے
اپنے پیٹ میں کیا بھر رہے ہیں
بچے بھوک سے بلبلانے والے
کرونا سے پہلے ہی مر رہے ہیں

Comments are closed.