قید تنہائی

(نبیلہ اشرف)

مرتد کی, ملحد کی نہ قاتل کی سزا ہے
یہ قید میرے ہاتھ ملانے کی سزا ہے
اپنوں کا یاروں کا یا غیروں کا گلہ کیوں
جو خود کئے یہ ان گناہوں کی سزا ہے
موت کے سائے میں جینے کا مزا کیا
یہ قرنطینہ اک ذوق محفل کی سزا ہے
وحشتیں ہیں چار سو ,ویرانیاں بھی ہیں
جدا جدا رہو ,یہ اس طرح کی سزا ہے
تم دیکھ لو دیہان سے,اےشہر بے عقل
یہ شہر میں پھیلی ہوئ وبا کی سزا ہے

Comments are closed.