سلیف آئیسولیشن

(شگفتہ شفیق)

ہنستی بستی سی بستیا ں خا مو ش
کیا کہو ں کیو ں ہیں مہر با ں خا مو ش

اس کرو نا نے کر دیا ہے تباہ
در پہ تالہ ہے کھڑ کیاں خا مو ش

اب تو وہ بھی کلام کرتی نہیں
بو لتی آنکھیں چپ زبا ں خا مو ش

پھو ل اب بھی مہکتے رہتے ہیں
ملنے آتی ہیں تتلیا ں خا موش

حال اپنا تمہیں سنایئں کیا
اب تو لکھتے ہیں داستا ں خا مو ش

قہقہو ں کا جہا ں بسیرا تھا
ہو چلا اب وہ آ شیا ں خا مو ش

اب شگفتہ کسے سنایئں غم
ہو گیا میرا راز دا ں خا مو ش

Comments are closed.