کرب اور درد میں اٹھتی ہوئی ہر آہ کی خیر

(یاور رضا یاور)

کرب اور درد میں اٹھتی ہوئی ہر آہ کی خیر
صبر کرتے ہوئے لوگوں کی,شہنشاہ کی خیر
حسرت و یاس میں اٹھتی ہوئی نگاہ کی خیر
وسعتِ قلب لیے مونس و خوشخواہ کی خیر
نہ ستمگار,نہ صحرا,نہ ہوا کے ڈر سے
ہم کو یکجہتی سے لڑنا ہے وبا کے ڈر سے
.
حرکتِ قلب بھی کم,سانس اکھڑ جاتی ہے
جسم تپتا ہے جدا,روح بھی گھبراتی ہے
ذہن پر بوجھ بھی ایسا ہے کہ جاں جاتی ہے
جان لگتا ہے کہ سینے سے ہی کھنچ آتی ہے
اہلِ طب سوچ رہے ہیں اب اس وبا کا علاج
احتیاط اور دعا ہی ہے *کرونا* کا علاج
.
اہلِ دنیا جو حفاظت کی دعا کرتے ہیں
اور اِس مرض کے مغموم دوا کرتے ہیں
منتظر سب ہیں طبیبوں کے,یہ کیا کرتے ہیں
جبکہ سب اپنے فرائض کو ادا کرتے ہیں
یوں تو آسان ہے اِک ایک کا واعظ ہونا
ہاں مگر! وقتِ مصیبت میں محافظ ہونا
.
احتیاط اور تدابیر کی تلقین کریں
اہلِ دیں *ذکر* سے ہر قلب کی تسکین کریں
کب یہ حق ہم کو ہے اک دوجے کی توہین کریں؟
اپنے پیاروں کے لیے خود کو *قرنطین* کریں
اس پریشانی میں ملّت کے بھی کچھ کام کریں
گو جو مصروف ہو اُس اُس کا احترام کریں
.
ایک *روٹی* ہی سہی بھوکے کو پہنچا آئیں
ایک *کرتا* ہی سہی ننگ کو پہنا آئیں
پیاسے لوگوں کے لیے *صورتِ سقّا* آئیں
مرض سے ہوتے پریشان کو *بہلا* آئیں
ہم جو اک دوجے کے ہر غم کی دوا رکھیں گے
اس *کرونا* سے زمانے کو بچا رکھیں گے
.
خدمتِ خلق کو مصروف شہیدوں کو سلام
اور امداد کو بڑھتے ہوئے قدموں کو سلام
حفظ میں دھوپ سے جھلسے ہوئے چہروں کو سلام
فتح پانے کو بڑھے جاتے ارادوں کو سلام
*یاور* اب تابہ ابد نقشِ اماں رکھنا ہے!
اور اس عظم کو تادیر جواں رکھنا ہے!

Comments are closed.