اے خدائے لم یزل

(شہزاد بیگ)

کیسا موسم ہے یہ
حبس ہی حبس ہے چارسو
شہر میں سانس لینا بھی ممکن نہیں اب رہا

کیسا موسم ہے منظر ہے یہ
بالکونی سے میں دیکھ سکتاہوں سب
پر کسی کو بھی چھونا ممنوع ہے
دور سے ہاتھ کا اک اشارہ بہت

کیسی دنیا ہے یہ
جس کو خوف۔خدا کا شعور
اس “کرونا” نے بخشا

کیسا انساں ہے یہ
جس نے سب یہ تماشا
اپنی انکھوں سے دیکھا
اور بے بس رہا
کیوں تباہی سے اپنی رہا بے خبر

دیکھنا ایک دن
سب جہانوں کا رب
سایہ۔عرش سے
پھر سے زندہ کرے گا بشر کو
اور سجائے گا
مٹی کے اس فرش کو

Comments are closed.