ڈرنا نہیں

(ادریس بابر)

ڈرنا نہیں!

اے ہم وطن/ اے ہم سخن / اے ہم چمن/ اے ہم نشیں// ڈرنا نہیں!

مانا، ابھی ہیں/ سنسان سڑکیں/ ویران راہیں
گھر سے نکلنا/ اور ساتھ چلنا/ باتوں سے باتیں/ باہوں میں باہیں/
چھوڑو نہ فلمیں/ جانے دو بڑکیں/ دو چار چھے دن / مشکل رہیں گے
جینا ہے پیارے / پھر مل رہیں گے / ہم دوست سارے / مرنا نہیں / اے ہم نشیں // ڈرنا نہیں

فطرت سے ہم کو / اشارہ ملا ہے / قسمت سے تم کو / یہ موقع ملا ہے
حال ان کا پوچھیں / وہ بے نوالے/ کچھ بھی جو منہ سے / کہتے نہیں
ان کو بھی دیکھیں / وہ بے گھرالے / کیا وہ ہمارے / آلے دوالے / رہتے نہیں
ان کے لیے بھی / آسانی کر دیں / تاروں کی جھلمل / جھرنوں کِن مِن / ارزانی کر دیں
پھر بچ نکلنے کا / انسانیت کی منزل کو چلنے کا ایسا کوئی چانس ورنہ نہیں / ڈرنا نہیں!

غرضی سے موقع جانے نہ دینا / فرضی سے دھوکا کھانے نہ دینا
جینے کا مقصد مر ہی نہ جاے! اندر سے ہر شخص ڈر ہی نہ جائے
مرضی چلے گی پھر تو وبا کی / اس خوفناکی سپنے سے اٹھ کر
اپنے سے اٹھ کر / ہم نے اگر کچھ پہلے سے بہتر کرنا نہیں / ڈرنا نہیں

Comments are closed.