غم کی شام چلی جاؤ

(نبیلہ اشرف)

غم کی شام چلی جاؤ
سوکھے سوکھے پتوں میں
روکھے روکھے لہجوں میں
چڑھتی لڑتی لہروں میں
بڑھتی گٹھتی سحروں میں

غم کی شام چلی جاؤ

تپتی چپ دوپہروں ۔میں
دشت و غم کے پہرو ں میں
خار و خشت کے قہروں میں
ظالموں کے تندچہروں میں

غم کی شام چلی جاؤ

سننے والےچپ بہروں میں
اندھوں کے چلتےشہروں میں
خونوں کی رستی نہروں میں
صدیوں کےجلتے دہروں میں

غم کی شام چلی جاؤ

Comments are closed.