کروناکےکمالات

(محمدنقیب اللہ رازی)

کرونوکمال
کوستے دی ہوئے نوعلم،کروناکوراری ہائے؟

بس لُو مگم سفان ہیہ کہ ہیس آیہاری ہائے

پُھوپُھوک سبق جہانوتے دیلی اوشوئے ہموش

کہ نو ژانیس قیامتو منظر دی بوئے ہموش

مالان امالہ بوئے ، نہ رِشتان امالہ بوئے

ہر کا ہتیرا خُورو پیچھی تان اَمالہ بوئے

فرصت اوشوئے نوکوس دی،وا دُورو پوشین نوہوئے

فرصت ہَنی نیسائے کہ دُورار اَف نیسین نوہوئے

کوس کہ دُوکان عبادتو وختہ دی ہوئے نو بند

چُھوئے تا انوس کورین بیکو حالت ہویا پسند؟

تُو راو اوشؤ کہ عہدہ،حکومت مہ ہوستہ شیر؟

تُو راو اوشؤ علاج وچے حکمت مہ ہوستہ شیر؟

میدانہ گئے ،پشاوے کہ طاقت تہ کُورا کھیت؟

حکمت تہ کُوئے بغائے؟،وامہارت تہ کُور اکھیت؟

ہوستان نیگیک، صفائیو ہر لُو ہمیش اوشوئے

دی ہُوت رُوپھی شینی چوکے،ہیس بوتہ دیش اوشوئے

شرم وحیاتہ موخہ نوہوئے،چیت مہ تان ریتاو

مہ اختیارا مال وچے عزّت ،مہ ژان ریتاو

پردہ کوریکہ ہؤ نوا مجبور تان ہنون؟

سف کھوشت ہونی تہ موخ،تہ بدن ،پُھور تان ہنون؟

روزگارا کامیابی لیتم رے یقین ارو

اللّٰہو دُورو بند ، دُوکانان ہُورین ارو

فرصت تتے نیسکو ،بے فرصت فضا بیرو

دُوراری اَف نیسیس کھیو؟ ، ای وحشت فضا بیرو

دُنیا تمام بند ، سلامت زمین ہنون

تھوبو مگم ای منڈی بیرو بس ہُورین ہنون
————
(مفہومی ترجمہ) کروناکےکمالات

(۱)کسی کوبھی اس کا علم نہ ہوسکاکہ کروناآیاکہاں سے؟تاہم سب یہی کہتے ہیں یہ اوپرسے ہی آیاہواہے۔
(۲)اس کے آنے کامقصدیہی تھاکہ دنیایہ یہ سبق دے کہ لوگ جس کوقیامت کہاکرتے ہیں یہ اس کاایک ادنی منظرہے
(۳)کہ اُس وقت نہ کسی کواپنے مال ودولت کی فکرہوگی اورنہ رشتہ داریاں کام آئیں گی،بس سب کواپنی ہی ذات کی فکرلاحق ہوگی۔
(۴)ذراغورتوکرو،کہ لوگوں کی زندگی اتنی مصروف ہوچکی تھی کہ لمحے کے لئے بھی گھرآنے کی فرصت نہیں ملتی تھی،اوراب اتنی فرصت مل گئی کہ لوگ گھروں سے باہرنکلتے ہی نہیں۔
(۵)جولوگ اپنی دوکانیں عبادت کے اوقات بھی بندکرناگوارانہیں کرتے تھے،اب دن رات دوکان بندہونے سے ان کومزہ آیاہوگا؟
(۶)ل جن کویہ گھمنڈتھاکہ ہم بڑے منصب پرفائزہیں،یاہماری حکومت ہے،اوریہ کہ طب وحکمت کےسارے گرہمارے ہاتھوں میں ہیں،آج وہ کہاں ہیں؟
(۷) وہ آئیں میدان میں اوردکھائیں ان کی طاقت کہاں گئی؟،ان کے علم وحکمت کوکیاہوا؟اوران کے تجربات کہاں غائب ہوئے؟۔
(۸)کب سےہاتھ دھونے اورصاف ستھرارہنے کی باربارتاکیدکی جاتی تھی،لیکن اس پرعمل کرنے کے لئے کوئی تیار نہ تھا،اب یہی سزاہے کہ بلاوجہ ہاتھ دھوتے اور ملتے رہاکرو۔
(۹)چہروں سے شرم وحیاکاپردہ اٹھ چکاتھا،لوگ یہی کہنے لگے تھے کہ میرے مال ،عزّت اورجان پرمیرا ہی اختیارہے۔
(۱۰)اب خود اپناچہرہ،بدن اورزلفیں چھپانے پہ مجبورہوگئے۔
(۱۱)کاروبار میں کامیابی پریقین رہا،اوراللہ کاگھربندہونے اورمارکیٹیں کھلنے پررضامندہوگئے۔
(۱۲)اب جب تجھے مل بیٹھنے کی فرصت ملی ،توزمانے میں بے فرصتی کی فضاچھاگئی۔تو گھرسے باہرکیونکرجھانک سکوگے کہ باہروحشت کی فضاہے۔
(۱۳)اگرچہ آج ساری دُنیالاک ڈاؤن ہوچکی ہے،مگرمایوس نہیں ہوناچاہئے کہ ایک دروازہ اب بھی کھلا ہے اور وہ توبہ کا دروازہ ہے۔

Comments are closed.