کرونا نامہ

(شہاب ظفر)

ہات تم سے مِلا نہیں سکتا
فاصلہ یہ گھٹا نہیں سکتا
چھینکنا تو ہے دُور کی بات
کُھل کے اب مسکرا نہیں سکتا
کیونکہ ڈرتا ہوں میں کرونا سے

مَل رہے ہیں وہ اب کفِ افسوس
اُن کے ارماں پہ پڑ گئی ہے اوس
ہاتھ صابن سے دھو رہے ہیں آج
یہ بتاتے اب اُن کو آئے لاج
کیونکہ ڈرتا ہوں میں کرونا سے

ایک کاگنیزیبل اوفینس ہوا
کھانسنا جُرمِ ’’لا ڈیفینس‘‘ ہوا
رونا مثبت ہو، ہنسنا مثبت ہو
کووِڈ اُنّیس بس نہ مثبت ہو
کیونکہ ڈرتا ہوں میں کرونا سے

یہ بھی جینا ہے کیا کوئی جینا
ہو رہے ہیں سبھی قرنطینہ
اپنی خوشیوں پہ یوں ری ایکٹ کرو
پہلے ان کو بھی ڈس انفیکٹ کرو
کیونکہ ڈرتا ہوں میں کرونا سے

گفتگو چل پڑی اکیڈیمک
کیا ہے طاعون، کیا ہے پینڈیمک
لاکھوں کھا کے بھی ٹس سے مس نہ ہوا
موت ہے گویا وائرس نہ ہوا
کیونکہ ڈرتا ہوں میں کرونا سے

یہ ہی واحد ہے ایک اپنا کوَر
ایک پیچھے ہے، ایک آگے بھنور
آئو ہاتھوں کو سینی ٹائز کریں
اس عمل کو ہم میکسی مائز کریں
کیونکہ ڈرتا ہوں میں کرونا سے

Comments are closed.