درد کورونا

(ذکیہ بہروز ذکی)

یہی دردِ کورونا ہے
کہ جب مجروح ہو سینہ
تو پھر سنبھال کر رکھو
حسیں یادوں کا گنجینہ
محبت میں ضروری تو نہیں
ہر گام پر ملنا
وصال عشق میں کافی ہے
بس احساس کا زینہ
وہ دردِ نارسائی ہو
کہ محرومی و حسرت ہو
شکستہ آرزئووں کی
کسک ہو یا اذیت ہو
ذکی اک گوشہء دل میں
ضروری ہے قرنطینہ

Comments are closed.