یہ کیسی وبا آ گئی اس جہاں میں

(ڈاکٹر محمد مشرف حسین انجمؔ)

زمیں پر تھا خُوشیوں کا اِک راج ہر سُو
سَروں پر تھا مہکار کا تاج ہر سُو
ہُوا قید ہر اِک بشر آج ہر سُو
مصائب کی بپھری ہیں امواج ہر سُو
اَدا وہ کہاں آج آبِ رواں میں
یہ کیسی وبا آ گئی اِس جہاں میں
’’کرونا‘‘ نے گھیرا ہُوا ہے سبھی کو
عجب ہر طرف خوف ہے زندگی کو
پریشان ہی کر دیا ہر کسی کو
نظر لگ گئی آج کل ہر خُوشی کو
سبھی بند ہو جائو اپنے مکاں میں
یہ کیسی وبا آ گئی اِس جہاں میں
غموں کی اندھیری قریں ہو گئی ہے
یہ سنسان ساری زمیں ہو گئی ہے
وَبا سے جبیں پُرحزیں ہو گئی ہے
یہ مخلوق گوشہ نشیں ہو گئی ہے
دِکھائی دیا خوف دل کے نشاں میں
یہ کیسی وبا آ گئی اِس جہاں میں
سبھی رونقیں دُور ہونے لگی ہیں
محافل یہ بے نُور ہونے لگی ہیں
نگاہوں سے مستور ہونے لگی ہیں
بہاریں بھی رنجور ہونے لگی ہیں
سمایا ہُوا خوف ہے قلب و جاں میں
یہ کیسی وبا آ گئی اِس جہاں میں
گھروں میں ہی رہنے میں سب کا بھلا ہے
’’کرونا‘‘ کی باہر چلی اِک ہَوا ہے
گرم پانیوں میں ہی اِس کی دوا ہے
وُضو میں بھی خُوشبوئے حُسنِ شفا ہے
بہت تِیرگی چھا گئی گلستاں میں
یہ کیسی وبا آ گئی اِس جہاں میں
یہ انسان بھُولا ہُوا تھا خُدا کو
جُدا کر رکھا تھا نظر میں حیا کو
سجایا تھا کب دل میں اُس کی رضا کو
یہ کب سُن رہا تھا کرم کی صدا کو
اُتر آیا ہے خوف پیر و جواں میں
یہ کیسی وبا آ گئی اِس جہاں میں
’’کرونا‘‘ وبا نے دبوچا ہے سب کو
اے انجمؔ منا لیجیے اپنے رب کو
سجا لیجیے حمد سے روز و شب کو
بدل ڈالیے اپنے جیون کے ڈھب کو
اُتر آئیں گی رونقیں آشیاں میں
یہ کیسی وبا آ گئی اِس جہاں میں
——-

’’کرونا ‘‘ وبا سے بچا میرے مولا
ہمیں رحمتوں میں بسا میرے مولا
سبھی آفتوں سے ہمیں دُور رکھنا
یہی ہے لبوں پر دُعا میرے مولا
دلوں کو سکینت کی خُوشبو سے بھر کر
نگاہوں میں راحت سجا میرے مولا
’’کرونا‘‘ سے محفوظ ہو جائے خلقت
کرم کے مناظر دکھا میرے مولا
مِٹا دے تُو اس کی نحوست جہاں سے
فنا ہو یہ مُوذی بلا میرے مولا
تری اَرض پر تیرے مجبور بندے
ہیں تکلیف میں جا بجا میرے مولا
چمن میں نبیؐ کی محبت کے صدقے
گلابِ شفا اب کھِلا میرے مولا
خلائق ہے محصور اپنے گھروں میں
کرو ہر خطا سے رِہا میرے مولا
خوشی میں بدل ڈال رنج و الَم کو
ہے انجمؔ کی یہ التجا میرے مولا

Comments are closed.