محشر سا بپا ہے کہ قضا پھوٹ پڑی ہے

(ماجد حسن)

محشر سا بپا ہے کہ قضا پھوٹ پڑی ہے
اس شہر میں یہ کیسی وبا پھوٹ پڑی ہے

بے چارگئ دست طلب کا یہ اثر ہے
آنسو تو نہیں چشم انا پھوٹ پڑی ہے

دل کی ہی سنے وہ نہ اثر اس پہ سخن کا
اشکوں سےمگر دل کی دعا پھوٹ پڑی ہے

یہ صبح فسردہ میں مجھے کس نے پکارا
بے نور اجالے میں ضیا پھوٹ پڑی ہے

کس کس پہ حسن کیجے یہاں گریہ و زاری
ہر گام پہ دل گیر صدا پھوٹ پڑی ہے

Comments are closed.