بے درد کورونا

(عائشہ صدیقہ آشا)

کورونا میں آج بے حال جہاں پہنچتا ہے نقصان
روز بروز بڑھتا ہے تاہم کورونا کا ہیجان

اسکول کالج سب بازار دفتر کھیلنے کا میدان
سامنے آنکھوں کے آباد دنیا ہوتی ہے بیابان

کہیں بازار جانا ، ملنا منع اسیر ہے انسان
ہر گھڑی آج موت کا ڈر کرتا ہے حیران

قاتل کورونا چھینتا ہے کتنا تازہ تازہ جان
ہیں ان میں بچہ بوڑھا ادھیر و جوان

نہ ہسپٹال میں ڈاکٹر ہوتے مریض کا نگران
اس حالت میں سوائے خدا کون ہے مہربان

بچا لیجئے ہم کو معبود ہم تھے نا فرمان
کہتی آشا کہاں تھے ؟ جب لانا تھا ایمان

Comments are closed.