ذرا سے وائرس نے

(جلیل عالی)

بس کرونا!

ذرا سے وائرس نے
دوڑ لگوا دی جہاں بھر کی
عزیزوں،دوستوں کے درمیاں بھی
فاصلے دیوار کر ڈالے
دِنوں میں
شہر بن،
گھر غار کر ڈالے
جہازوں کو زمیں بستہ کیا ایسے
پرندے پر کٹے جیسے
ٹرینیں جام،
صبحیں شام کر ڈالیں
لگائے دفتروں،تعلیم گاہوں،
معبدوں پر خوف کے تالے
بھرے عشرت کدے، شاپنگ پلازے
کر دیے ویران
اور سُنسان
سارے کوچہ و بازار کر ڈالے
دلوں پر دہشتوں کے
کیسے کاری وار کر ڈالے
ہر اک احساس پردے پر
نمایاں موت کے آثار کر ڈالے
بدل ڈالے بیانی زاویے
سب فلسفے بیکار کر ڈالے

Comments are closed.