خدا کے حضور

(حنا عنبرین)

نظم

(1)

اے خدا
کائناتی تصور کی رگ کٹ گئ ؟
تونے سطحی دماغوں میں روکا تعفن رواں کردیا ؟
ان کی ازلی جہالت کا فتنہ فنا کردیا ؟
وہ جو سچ بولنا چاہتے تھے کہاں کردیے ؟
جن زبانوں کو جھوٹے خداؤں نے لکنت زدہ کردیا !
سب تباہ کردیا !
پاک روحوں پہ بہتان لگنے سے کتنی خراشیں پڑیں
بھیڑیے ! پھر بھی الزام بازی سے تھکتے نہیں
دل کی سختی کی حد ہے
وبا کے دنوں میں بھی اس رب سے ڈرتے نہیں
(2)
ہم کو احساس ہے !
لمس کا حرص کچھ بھی نہیں
دید لالچ کی ہڈی سے لٹکا ہوا ماس ہے
سانپ ہیں جن کے سم کار آمد نہیں
یہ خوشامد نہیں
تو نہیں چاہتا ہے کہ تُو ان کے پیٹوں کو پیپ اور لہو سے بھرے
فیصلہ تو ترے ہاتھ میں ہے !
اگر ان کی رسی کو تو نے ابھی تک نہیں کھینچنا تو تری
مصلحت ہی نمایاں ہے
(3)
پر اے خدا !
وقت کس کا ہوا
دودھ اور شہد کی نہر سے
اور شراب ِ طہورا سے
اک آبخورہ پلا !
تاکہ دنیا کی دُھتکار سے کچھ شفا مل سکے
اُن کو دنیا ملے اور ہم کو ہمارا خدا مل سکے

2
نظم

شجر ممنوعہ

میری سو بار توبہ ہے !
میں یہ نہیں کہہ رہی پر مجھے لگ رہا ہے
کہ تیرے مجھے چھوڑ جانے کے باعث
زمینی محبت پہ حد لگ گئ
ہاتھ ملنے نہ پائیں گلے لگ کے ملنا بڑا جرم ہے
کون تھا جس نے یہ ہجر نافذ کیا
جانے والے مرا حال تجھ پہ کھلے
میں نے برسوں ریاضت کی پلکوں سے نم کو چرا کر
جدائ کے نیزے کی انّی کو دل میں پرو کر ،
کئ قرن رو کر ترے لوٹ آنے کی مَنّت میں
صدیوں کے روزے کی افطار کی ہی نہیں !
تجھ کو معلوم ہے ؟
وہ جو تھی تیرے دم سے معطر وہی زندگی
میں نے جی ہی نہیں !

Comments are closed.