ساری دُنیا میں ہے شور

(ڈاکٹرمحمّد اِقبال صمصام)

ساری دُنیا میں ہے شور
پھیلا کورونا اس طور

مجنوں صحرا میں رُوپوش
لیلیٰ بیٹھی گھر میں بور

خوفِ خُدا کیا ہوتا ہے
کیا جانے یہ رشوت خور

سارا جنگل ہے خاموش
پھر بھی ناچ رہا ہے مور

دولت مندوں کی ہے موج
بھوکے مرتے ہیں کمزور

رُوکھا رُوکھا ہے انسان
آیا ہے اب ایسا دور

ایمانی قوّت مفقود
کانپ رہا ہے ہر شہ زور

اے اللہ کے نافرمان
چپ کر نہ کر اتنا شور

ہر جا لاشیں گرتی ہیں
ہر اک دیس بنا ہے گور

وقتِ ندامت ہے صمصامؔ
جھانک گریباں میں کر غور

Comments are closed.