مصیبت

(اظہر عباس)

مصیبت کی گھڑی سر پر کھڑی ہے
اداسی میں لپیٹی شال جیسا شہر سارا @
کسی بیوہ کے آنگن کی طرح ویراں پڑا ہے @
یتیموں کی طرح سڑکیں پڑیں ہیں @
یہاں آدم تو آدم
رات گلیوں میں جو کتے بھونکتے تھے @
انہیں دیکھے بھی مدت ہو چلی ہے @
وہ جب دم توڑنے والوں کی گنتی ہو رہی تھی “تب یہ جانا @

وبا میں مرنے والوں سے زیادہ مر گئے ہیں بھوک سے لوگ
دعایں مانگتے ہیں آج وہ بھی
جو کہتے تھے خدا کوئی نہیں ہے @

عجب سا خوف ہے جو رات دن گلیوں میں کتوں کی جگہ پر دوڑتا ہے

ہمیں ڈر ہے اداسی شال سے نکلی تو ایسا قہر لاۓ گی
گلی کوچے کسی مہندی لگے ہاتھوں کے جیسے سرخ ہو جائیں گے سارے

کسی کو کیا بتائیں کون سمجھے
مصیبت کی گھڑی سر پر کھڑی ہے

Comments are closed.