کہ اب وقتِ مدد ہے

(طاہر یاسین طاہر)

جینا ہوا دشوار کہ اب وقت ِ مدد ہے
یا حیدر ِ کرّـار کہ اب وقت ِ مدد ہے
امداد کا طالب ہے اِدھر عالم ِ اقوام
یا سیّد ِ ابرار،کہ اب وقت ِ مدد ہے
ویران ہے کعبہ بھی،کلیسا بھی، حرم بھی
یا احمد ِ مختار،کہ اب وقت ِ مدد ہے
تسبیح پروتے ہیں،کبھی سجدے میں جا کر
روتے ہیں گنہ گار،کہ اب وقت ِ مدد ہے
یا رحمت ِ عالم، یہاں عالم پہ بنی ہے
ہیں آپ مددگار،کہ اب وقت ِ مدد ہے
بندے ترے ڈرتے ہیں جو ہم زاد سے اپنے
بے زار ہیں اشجار،کہ اب وقت ِ مدد ہے
تقدیر کو ہے فیض ِ الہٰی کی ضرورت
تدبیر ہے بیمار ،کہ اب وقت ِ مدد ہے
نادیدہ وبا پھیل گئی ارض ِ وطن میں
ہر سانس ہوا بار،کہ اب وقت ِ مدد ہے
سجدے میں پڑے روتے ہیں پیرانِ ولایت
معصوم و خطاکار،کہ اب وقت ِ مدد ہے
محتاج ہیں،درپیش ہے اک جنگ ہمیں آج
اے رحمت ِ غفّار،کہ اب وقت ِ مدد ہے
انساں کے لیے قہر ہے یا کوئی بلا ہے
اے دست ِ مدد گار،کہ اب وقت ِ مدد ہے
ہے عالم ِ انساں کو مسیحا کی ضرورت!
غَیبت سے ہو اظہار،کہ اب وقت ِ مدد ہے
دنیا کی نظر دست ِ مسیحا کی طرف ہے
عالم کے شفا کار،کہ اب وقت ِ مدد ہے
اب لکھّے کوئی معجزہ قِرطاسِ زمیں پر
طاہر سا قلم کار،کہ اب وقت ِ مدد ہے

Comments are closed.