کوئی دن آئے گا جب خوش خبری آئے گی

(گوتم ملتانی)

روشنی گھٹی چلی جاتی ہے رفتہ رفتہ
شہر بھی چپ، در و دیوار بھی سہمے ہوئے ہیں
زندگی خوف کی زنجیر میں جکڑی ہوئی ہے
وسوسے کتنے ہی ہر شخص سے لپٹے ہوئے ہیں

کیا خبر کب کوئی اپنا کوئی جاں سے بڑھ کر
ملنے آ جائے، اسے ہاتھ ملانا پڑ جائے
اور اس تھوڑے سے اخلاص و مروت کے سبب
عین ممکن ہے ہمیں جان سے جانا پڑ جائے

گو کہ اس حال میں امید تو کم ہے گوتم
پھر بھی لگتا ہے کہ قدرت کی مدد آئے گی
منتظر رہنا ہے، مایوس نہیں رہنا ہے
کوئی دن آئے گا جب خوش خبری آئے گی

Comments are closed.