میں مسلم ہوں

(علی رضا بلوچ)

مجھے وقت معین سے بھلا انکار ہی کب ہے؟
مگر ایسے نہیں مرنا، کرونا سے مجھے ہرگزنہیں مرنا
مجھے نہلایا تک نا جائے
کفن پہنایا تک نا جائے
حقارت سے اٹھا کر بے جنازہ میری میت کو
بہت ہی دور پھینک آئیں
مرا پھر آخری دیدار تک نا ہو
مرے دل کی یہ خواہش ہے
کہ مجھکو موت جب آئے
تو سب رسمیں بصد عزت ادا کی جائیں
مجھے بھی پیار سے نہلا دیا جائے
مرے سب چاہنے والے
مجھے دیکھیں مجھے چھوئیں
مرے کورے کفن پرعطر بھی چھڑکیں
مرے سارے بدن پرپھول بکھرے ہوں
مجھے کلمہ شہادت پڑھ کے کاندھوں پر
اٹھا کر گور تک لائیں
مجھے میرے ہی گاؤں میں
مجھے میرے ہی اپنوں میں بصد تکریم وعزت یوں
سپرد خاک کر آئیں
وقارآدمیت کوبھی کوئی ٹھیس نا پہنچے.
ضروری ہے!
یہی فطری تقاضے ہیں
مگر اس وائرس میں مبتلا ہونے سے پہلے ہی
میں کیوں نا گھر میں رہ جاؤں؟
میں کیوں نا ٹھان لوں دل میں
بلا کی وحشتیں بھی ہوں
سروں پر بھوک منڈلائے
بہت سے لوگ یاد آئیں
تو پھر بھی گھر میں رہنا ہے
کرونا ختم کرنا ہے.

Comments are closed.