تازہ غزل ۔ بہ آہنگِ ھَوا کیا کیا

(جلیل عالی)

تازہ غزل
بہ آہنگِ ھَوا کیا کیا بہ نیرنگِ ہوس کیا کیا
زمیں پر پھیلتا جاتا ہے شر کا وائرس کیا کیا
کبھی سچی خوشی سے آشنائی کی نہ رَو آئی
رہا ہے دوسروں کو ٹھیس پہنچانے سے مَس کیا کیا
ہر اک حد سے نکل جانے کی اندھی خواہشوں اندر
بنا بیٹھا خود اپنے واسطے انساں قفس کیا کیا
حدِ ناممکن و ممکن سے بالا مرضیوں والا
چلاتا ہے زمین و آسماں پر اپنا بس کیا کیا
خرد خیموں میں بھی رقصاں خبر پرچھائیاں اُس کی
سفر میں ہیں اُسی کی سمت مینار و کلس کیا کیا
زمانہ دیکھنے کی دٔھن میں آئینہ نہیں دیکھا
اور اب اِس عمر میں آنے لگا خود پر ترس کیا کیا
کوئی رُت بھی کہاں غم سے گئی خالی مگر عالی
اکٹھی آگئی ہیں آفتیں اب کے برس کیا کیا

Comments are closed.